!یا رب

 ڈر ڈر کے اب تک جیا ہے یا رب

دے دے اس جاں کو اب ہمت یا رب

۔

ٹھکانہِ مثائل ہے دنیا، بہتر

بسی ھے جو نیند میں دنیا یا رب

۔

اس ڈر سے جتائیں گے وہ پھر ہمیں

نہیں مانگتے مدد ہم ان سے یا رب

۔

کرنا چاہے اگر دل بھروسہ مگر

بنا گیا دھوکا ناممکن یا رب

۔

خیال یے ان کا ناچیز ہیں ہم

اس دکھ سے جئیں پھر ہم کیسے یا رب

۔

انز اپنائیں وہ کسی کے مگر

بھولتے ہیں جیوں وہ شناخت یا رب

۔

نہ گناہ گارکو  دنیا میں بےشک

بدلہ ملے گا دربار میں یا رب

۔

بن ساحل سمنر میں ڈوبا ہے دل

دل ڈھونڈتا ہے ساحل، تو ہے یا رب

۔

کہ ڈالا مہریں نے یہ تجھ سے یا رب

نہ مانگی مدد اور کسی سے یا رب

۔۔۔

(عبیرہ  بیاجی مہرین)

Advertisements

One Reply to “!یا رب”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s